ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / آر ایس ایس پر کنڑا مصنف کی کتاب نے سیاست میں مچا دی ہلچل،ہندو تنظیمیں چراغ پا، پابندی عائد کرنے کا مطالبہ

آر ایس ایس پر کنڑا مصنف کی کتاب نے سیاست میں مچا دی ہلچل،ہندو تنظیمیں چراغ پا، پابندی عائد کرنے کا مطالبہ

Thu, 14 Jul 2022 21:38:36    S.O. News Service

بنگلورو،15؍جولائی (ایس او نیوز؍ایجنسی) کنڑا کے معروف دلت مصنف اور کارکن دیوانور مہادیوا کی حالیہ کنڑا  کتاب ‘آر ایس ایس – آلا متّو۔ اگلا (آر ایس ایس – گہرائی اور وسعت)’ کو کرناٹک میں زبردست پذیرائی مل رہی ہے  اور ہزاروں کاپیاں اب تک فروخت ہوچکی ہیں، پتہ چلا ہے کہ  اس کتاب کے کئی زبانوں میں تراجم بھی ہورہے ہیں۔ پتہ چلا ہے کہ اس کتاب نے فروخت کے معاملے میں ریاست کرناٹک  کا اگلا پچھلا تمام ریکارڈ توڑ دیا ہے۔   72 صفحات پر مشتمل یہ کنڑا کتاب بظاہر' ایک پتلی کتاب ہے  مگر اس کتاب میں  راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کے نظریے پر تنقیدی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ کتاب نے کنڑا زبان میں اشاعت کے ماڈل کو بھی بہتر بنایا ہے  اور شعبے میں ایک نئی تحریک پیدا کردی ہے۔ درحقیقت، اس کتاب نے وبائی امراض کے بعد پچھلے دو سالوں میں فروخت کاری  کے معاملے میں باز ی مارلی  ہے۔ مہادیو کی کتاب کو اب تک چھ پبلشرز منظر عام پر لا چکے ہیں اور اس کی قیمت 40 روپے رکھی گئی ہے۔

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق  معروف مصنف دیوانور نے اپنی کتاب میں ٹھوس ثبوتوں کے بنیاد پر آر ایس ایس  کی پالیسیوں کو جس طرح  سے بے نقاب کیا ہے،  اس  پر ریاستی سیاست میں کھلبلی مچ گئی ہے اور دائیں بازو کے لوگ اس کتاب پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرنے کے ساتھ اس کتاب کو  آر ایس ایس کے خلاف پروپیگنڈہ  قرار دے رہے ہیں۔ پتہ چلا ہے کہ اس کتاب کی کچھ ہی دنوں کے اندر 40,000 کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔اور اس  کتاب کو پانچ زبانوں تمل ، تیلگو، ملیالم، ہندی اور انگریزی میں لانے کی تیاریاں جاری ہیں۔ 

کرناٹک کے صف اول کے مصنفین میں سے ایک، دیوانور مہادیوا کی طرف سے لکھی گئی  اس کتاب میں گولوالکر، ساورکر اور ہیگدیوار کی تحریروں کا حوالہ دیا گیا ہے  اور کہا گیا ہے کہ ان سب نے  کس طرح     دائیں بازو کی تنظیم کے نظریے کو تشکیل دی،  انہوں نے  اس بات کو بھی واضح کیا ہے کہ  وہ کس طرح ذات پات کے نظام کو جواز بناکر  آئین اور وفاقیت کی مخالفت کرتے ہیں۔ کتاب میں مصنف نے آر ایس ایس کے بیشتر ارکان کو 'منوادی' قرار دیتے ہوئے  کہا ہے کہ وہ ہندوستان کے آئین کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ’’بھگود گیتا غلامی کا ایک وسیلہ ہے‘‘۔

کتاب میں وزیر اعظم نریندر مودی پر ایک الگ باب ہے اور انہیں 'اتسو مورتی' (پریڈ دیوتا) کے طور پر بیان کیا گیا ہے اور مزید کہا گیا ہے کہ حقیقی کنٹرول ناگپور میں آر ایس ایس کے ہیڈکوارٹر کے پاس ہے۔

دیونور مہادیوا کو ایک نامور دلت مصنف اور کارکن کے طور پر جانا جاتا ہے۔ وہ 1948 میں کرناٹک کے ننج  گوڈا تعلقہ کے دیوانور گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ان کی پہلی  کہانی  کا مجموعہ یعنی سنگراہا دیوانورو 1973 میں شائع ہوا۔ 1981 میں شائع ہونے والے ان کے ناول اوڈالالا کو حکومت کرناٹک کی طرف سے  اور انڈین لینگویج کونسل  کی طرف سے راجیہ اُتسوا ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ انہوں نے میسور میں CIIL میں کام کیا، حکومت ہند  انہیں پدم شری ایوارڈ سے نواز چکی ہے، جو چوتھا سب سے بڑا شہری اعزاز ہے۔

کتاب کے منظر عام پر آنے کے بعد دائیں بازو تنظیموں کی طرف سے  اس کتاب پر پابندی لگانے اور مصنف کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی باتیں ہو رہی ہے۔ دائیں بازو اور بی جے پی کے حامی اس  کتاب کی اشاعت کے وقت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ یہ کتاب سیاسی مفادات کے ساتھ 2023 کے اسمبلی انتخابات کو ذہن میں رکھ کر لکھی گئی ہے۔

دوسری طرف اپوزیشن لیڈر سدارامیا نے دیونور مہادیو کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ  انہوں نے آر ایس ایس کے بارے میں جو کچھ کہا ہے وہ بالکل حقیقت ہے،  انہوں نے سوال کیا کہ کتاب میں کیا غلط لکھا  ہے، اُس کی نشاندہی کی جائے۔ سدارامیا نے مزید کہا کہ دیونور نے مناسب دستاویزات اور ثبوت جمع کرکے کتاب لکھی ہے۔ سدارمیا نے نے کہا کہ اگر کوئی سچ بولنے کی ہمت کرتا ہے تو آر ایس ایس اس سے ناراض ہو جاتا ہے۔  کیونکہ انہیں سچ پسند نہیں ہے۔ اس لیے وہ دیونور مہادیوا کے خلاف شکایت درج کر سکتے ہیں ، سدرامیا نے یہ بھی کہا کہ اگر انہوں نے  ایسا کیا تو  یہ آزادی اظہار کے بنیادی حق میں رکاوٹ ڈالنے والا عمل  ہوگا۔

اس کتاب کے چھ پبلشرز ہیں اور اہم بات یہ ہے کہ مصنف نے اپنے کام پر اختیار کا دعویٰ نہیں کیا ہے۔ آنجہانی صحافی اور سماجی کارکن گوری لنکیش کے نام سے منسوب گوری میڈیا ٹرسٹ بھی پبلشرز میں سے ایک ہے۔ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ کتاب کی تمام کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں اور پبلشرز بڑے پیمانے پر مزید کتابیں شائع کر رہے ہیں۔ 


Share: